Recent News

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے طول و عرض میں جولائی کے اوائل سے لے کر اگست کے آخر تک درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے طول و عرض میں جولائی کے اوائل سے لے کر اگست کے آخر تک درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مزکورہ موسمیاتی تغیر کی وجہ سے مختلف اضلاع میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد واقعات وقوع پزیر ہوئے جس کی وجہ سے عوامی اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا ، اور لوگوں کی جان ومال کے ساتھ ساتھ ذرائع آمدورفت میں خلل پڑنے کی وجہ سے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور سطح میں اضافہ ہوا ہونے سے نشیبی علاقوں کی بستیاں اور انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوئے۔ امسال حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قبل از وقت ٹھوس اقدامات کئے گئے اور جولائی کے اوائل سے ہی متعلقہ اداروں کے جملہ ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت کے پاس موجود مشینری اور افرادی قوت کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کیلئے ہدایات جاری کی گئیں۔ نتیجتاً لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب وغیرہ کے بے شمار واقعات رونما ہونے کے باوجود صورت حال قابو میں رہی اور پیشگی اٹھائے گئے اقدامات سے عوام کی مشکلات میں کمی آئی۔ حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایمر جنسی منصوبوں کا نفاذ کیا جا رہا ہے اور جی بی ڈی ایم اے کے زریعے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کے سامان مثلا خیمے، ترپال، کمبل،چٹائیاں، رضائیاں وغیرہ فراہم کئے جا رہے ہیں اور نقصانات کے عوض مروّجہ قوانین کے مطابق معاوضوں کی ادائیگی کی جارہی ہے ۔ ان اقدامات کے تسلسل میں مورخہ سترہ اگست کو، ضلع استور جو کہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ضلع ہے، کے متاثرین کو گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کی جانب سے معاوضوں کی ادائیگی کی گئی۔ اس موقع پر متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے معاون خصوصی برائے جی بی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کے سربراہان نے ضلع استور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر حکومت گلگت بلتستان کی پالیسی کے مطابق متاثرہ افراد کو معاوضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں چیکس تقسیم کیے گئے ۔ اسی طرح نقصانات اور متاثرین کی بحالی میں محکمہ برقیات کا کردار بھی مثالی رہا۔ ناگہانی آفات کی وجہ سے مختلف مقامات پر واٹر چینلز ، رابطہ سڑکیں، شاہراہیں اور محکمہ برقیات کے تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم صوبائی حکومت کے زمہ داران کی جانب سے بروقت رد عمل اور بحالی کے امور کی انجام دہی کی وجہ سے نظام زندگی متاثر نہیں ہوا اور بجلی کی فراہمی طویل تعطل کا شکار نہ ہوا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس ضمن میں اب تک تقریباً اکتیسں کڑوڑ کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان میں حالیہ موسمی صورت حال کے نتیجے میں متاثرہ لوگوں کے نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق حکومت گلگت بلتستان اس صورتحال کو انتہائی باریک بینی سے مانیٹر کر رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائی جارہی ہے تاکہ آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ پچھلے ایک ماہ میں گلگت بلتستان میں ہنگامی سکیموں کی منظوری کے لیے نو ایمر جنسی سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ سیلاب لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے بندش کا شکار سڑکوں اور شاہراہوں کو کھولنے کیلئے جی بی ڈی ایم اے کے ساتھ دیگر ادارے مثلاً بی اینڈ آر ، این ایچ اے، ایف ڈیبلیووغیرہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ یہ تمام کوششیں ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کی جارہی ہیں جو مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی جانب سے تمام متعلقہ حکام کو روز اول سے ہی واضح ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کو کسی بھی سطح پر تنہا نہ چھوڑا جائے اور عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

06:57:46 AM 30 August, 2024

گلگت۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد کو حالیہ بارشوں کے بعد کے نقصانات، بحالی کیلئے کیئے گئے اقدامات اور ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے تمام اضلاع کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ ذمہ داران نے بریفننگ دی۔

*محکمہ اطلاعات،حکومت گلگت بلتستان* گلگت۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد کو حالیہ بارشوں کے بعد کے نقصانات، بحالی کیلئے کیئے گئے اقدامات اور ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے تمام اضلاع کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ ذمہ داران نے بریفننگ دی۔ اس موقع پر سیکریٹری تعمیرات و کمیونیکیشن سبطین احمد،سیکریٹری داخلہ سید علی اصغر،سیکریٹری انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میر وقار احمد،سیکریٹری واٹر اینڈ ایریگیشن اعظم خان،گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام، و دیگر زمہ داران شریک تھے۔ دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ایکسیئنز نے بزریعہ ویڈیو لنک اپنے اپنے اضلاع کی موجودہ سیلابی صورتحال، اقدامات اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نبردآزما ہونے کیلئے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں،جس پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ نے متاثرہ منصوبوں کی فوری بحالی کیلئے موقع پر ہی ہدایات دیئے۔ کمشنر بلتستان ڈویژن شجاع عالم اور کمشنر گلگت ڈویژن کمال خان نے بلتستان اور غذر میں سیلاب اور بارشوں کے بعد کی صورتحال اور بحالی کے کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی،جس پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری حل حکومت گلگت بلتستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں،لہذا اس کے پیش نظر بحالی کے کاموں پر درکار فنڈز کے اجراء کی منظوری دی اور مفاد عامہ کے منصوبوں پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ علاؤہ ازیں تمام اضلاع میں بارشوں،سیلاب اور دریا کے بہاؤ سے متاثرہ حفاظتی بند کو فیڈرل فلڈ کمیشن کے منصوبوں میں شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

06:52:41 AM 30 August, 2024

گلگت (پریس ریلیز) سیکریٹری ہائیر، ٹیکنیکل اینڈ اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور ڈائریکٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن گلگت بلتستان کے جملہ سٹاف کی کاوشوں سے جی بی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (GCU) فیصل آباد نے جی بی کے طلباء و طالبات

گلگت (پریس ریلیز) سیکریٹری ہائیر، ٹیکنیکل اینڈ اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور ڈائریکٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن گلگت بلتستان کے جملہ سٹاف کی کاوشوں سے جی بی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (GCU) فیصل آباد نے جی بی کے طلباء و طالبات کے داخلے کے لیے فاطمہ جناح گورنمنٹ کالج گلگت میں داخلہ ٹیسٹ/انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔ پہلے مذکورہ ٹیسٹ کے لیے ان طلباء و طالبات کو فیصل آباد جانا پڑتا تھا جس پر وسائل، توانائی اور وقت صرف ہوتا تھا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے سٹاف نے ڈائریکٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن گلگت بلتستان، نومینیش سیکشن کے سٹاف کی معاونت سے اس ٹیسٹ کے انعقاد کو احسن طریقے سے یقینی بنایا۔ اس دوران ایک پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ مذکورہ یونیورسٹی کے علاوہ فیصل آباد وومن یونیورسٹی کے زمہ داران بھی اس ٹیسٹ میں معاونت کے لیے فاطمہ جناح کالج گلگت میں موجود تھے۔ نومینیش سیکشن گلگت کے سٹاف نے اس موقع پر ان سے گزارش کی کہ وومن یونیورسٹی فیصل آباد میں نئے تعمیر ہونے والے ہاسٹل میں گلگت بلتستان کی طالبات کے لیے بھی نشتیں مختص کی جائیں۔ جس پر انہوں نے حامی بھری۔ اس پیش رفت سے جی بی کی طالبات کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئی گی اور وہ بہتر انداز میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو سکیں گی۔

10:26:41 AM 29 August, 2024

گلگت۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے کہا ہے کہ گگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو مقتدر حلقوں اور عوام تک پہنچانے کے لئے پی ٹی وی کا اہم کردار ہے ۔

گلگت۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے کہا ہے کہ گگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو مقتدر حلقوں اور عوام تک پہنچانے کے لئے پی ٹی وی کا اہم کردار ہے ۔انچارچ پی ٹی وی گلگت سے گفتگو کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ صوبے میں میڈیا انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ کی درخواست پر ایم ڈی پی ٹی وی نے گلگت بلتستان میں بیورو آفس قائم کر دیا ہے،جس سے صوبائی سطح پر حکومتی اقدامات کی بہتر انداز میں تشہر میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کے بیورو آفس کے قیام کے بعد گلگت بلتستان میں دیگر ٹی وی چینلز بھی اپنا بیورو آفس قائم کریں گے جس سے علاقے میں روزگار کے مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ علاقے کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر میں مدد ملے گی۔ #Eiman Shah #PTV News

08:08:08 AM 29 August, 2024

گلگت۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان صوبے بھر میں جاری بارشوں کے حوالے سے گلگت بلتستان جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، محکمہ مواصلات و تعمیرات سمیت تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

گلگت۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان صوبے بھر میں جاری بارشوں کے حوالے سے گلگت بلتستان جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، محکمہ مواصلات و تعمیرات سمیت تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہراہوں کی بحالی سمیت کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں۔ وزیر اعلی نے سیاحوں سمیت عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ بارشوں کے موسم میں پہاڈی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

08:03:08 AM 29 August, 2024

گلگت۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے متاثرین ایئرپورٹ کے دھرنے سے خطاب

گلگت۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے متاثرین ایئرپورٹ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین ایئرپورٹ کا مسئلہ 70سالوں سے حل طلب ہے۔ صوبائی حکومت نے اس مسئلے کوحل کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے مختلف فورمز پر رابطہ کیا ہے۔ متاثرین کے جائز مطالبات کے حل کیلئے وفاقی حکومت کو خصوصی مراسلہ بھی تحریر کیا ہے۔ دھرنے میں موجود تمام متاثرین ہمارے بھائی ہیں۔ آپ کے مشکلات کا ہمیں احساس ہے۔ وزیر اعظم کے متوقع دورہ گلگت کے موقع پر متاثرین کی ملاقات کا بندوبست کیا جائے گا تاکہ آپ کے جائز مطالبات حل ہوسکے۔ وفاقی سطح پر بھی متاثرین ایئرپورٹ کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں صوبائی وزیر قانون اور سیکریٹری قانون شامل ہیں۔

07:58:53 AM 29 August, 2024

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کے زیر صدارت گلگت بلتستان ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے پہلے اجلاس میں محکمہ برقیات کے 7منصوبوں کی منظوری دی

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کے زیر صدارت گلگت بلتستان ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے پہلے اجلاس میں محکمہ برقیات کے 7منصوبوں کی منظوری دی جن کی لاگت 6ارب 56 کروڑ 39 لاکھ 37ہزار ہے اور اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیر ات عامہ کے4منصوبوں کی منظوری دی جن کی مجموعی لاگت 2 ارب 20 کروڑ 85 لاکھ ہے۔ اجلاس میں 3.5میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہمرن بلچھار بگروٹ منصوبے کی ریویجن جس کی لاگت 99 کروڑ 82لاکھ 77ہزار ہے محکمے کی جانب سے پیش کیا گیاجس پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے منصوبے کا سائٹ وزٹ کرنے اور اس منصوبے کے حوالے سے انکوائری کو جلد مکمل کرنے سے مشروط منظوری دی ۔ 3.5 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مقپون برج تا(2میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سوق اور ایک میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کچوار سکردو موڈیفیکیشن) کا منصوبہ پیش کیا گیا جس پر فورم نے 2 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سوق کی منظوری دی جس کی لاگت 99 کروڑ 99لاکھ 64ہزار ہے، 2میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اشکومن غذر لاگت 97 کروڑ78لاکھ 49ہزار فورم میں پیش کیا گیا جس پر منصوبے کے اضافی کام کو ری ٹینڈر کرکے مکمل کرنے کی منظوری دی گئی، 2میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ لچھت لاگت 86کروڑ 65 لاکھ 26 ہزار فورم میں پیش کیا گیا جس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ایک میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بلغار ڈوغنی جی بی اے 22 گانچھے۔ 1(فیزI سول ورک) لاگت 65کروڑ 64 لاکھ 21ہزارکا منصوبہ پیش کیا گیاجسے منظور کیا گیا، اجلاس میں ایک میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہائیڈل سٹیشن شگر فیزIIتا 1.5 میگاواٹ فیزIجی بی اے 12شگرلاگت 52 کروڑ 48 لاکھ کا منصوبہ فورم میں پیش کیا گیا جس کی منظوری دی گئی، 3میگاواٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مہدی آباد فیزIIIکھرمنگ لاگت 1 ارب 54کروڑ 37ہزار کو فورم میں پیش کیا گیا جس کی سی ڈی ڈی ڈبلیو پی سے حتمی منظوری کیلئے سفارش کی گئی۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کی جانب سے بلتستان ریجن میں معلق پلوں کی آر سی سی پلوں میں تبدیلی کے منصوبے کی ریویجن کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کی لاگت 54 کروڑ 59 لاکھ ہے جسے منظور کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں زمینوں کے معاوضوں کی ادائیگی کا منصوبہ لاگت 67 کروڑ 61لاکھ پیش کیا گیا جس کی منظوری دی گئی۔ آر سی سی پل ڈگری کالج ہاتون غذر کے ریویجن کا منصوبہ فورم میں پیش کیا گیا جس کی لاگت 49 کروڑ 38 لاکھ ہے جس کی فورم نے منظوری دی۔ چھومک پل تا لمسہ شگر روڈ کے ریویجن کا منصوبہ لاگت 49 کروڑ 27 لاکھ جس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے کہاکہ اے ڈی پی اور پی سی 1 کی رقم میں بہت زیادہ فرق موجود ہے۔ مستقبل کیلئے ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے جس کے تحت اس تفریق کو برابر کیا جا سکے۔ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے 3 سے 5 سال کی مدت مقرر ہوتی ہے۔ منصوبوں کو مقررہ مدت میں ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔ منصوبوں میں تاخیر سے قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے اور عوام بھی ان منصوبوں کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں۔ترقیاتی منصوبوں میں محکموں کی جانب سے پی سی 1 کے علاوہ اضافی کام شامل کیا جاتا ہے جو غیر قانونی ہے۔ اضافی کام کو شامل کرنے سے اصل منصوبہ التواء کا شکار ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ منصوبوں کے پی سی 1 میں کنسلٹنسی کے نام پر خطیر رقم مختص کی جاتی ہے جس کی وضاحت درکار ہے۔ متعلقہ محکموں کی جانب سے مناسب اور حقائق پر مبنی فزیبلٹی تیاز نہ کرنے اور کاسٹ اسٹیمیٹ / کیش پلان اور ورک پلان پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے اکثر منصوبوں کو ریویجن درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا محکموں کو پابند کیا جائے کہ فزیبلٹی اور پی سی 1 حقائق پر مبنی ہوں۔ زمینوں کے معاوضوں میں اضافے کی وجہ سے بھی اکثر منصوبوں کو روائز کرنا پڑتا ہے۔ منصوبوں کیلئے درکار زمینوں کے حصول کیلئے تعین کردہ TORS کے تحت سائٹ سلیکشن سیکشن 4 کا نفاذ اور زمین کے حصول کے عمل کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق یقینی بنایاجائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برقیات کے منصوبوں میں دیکھا گیا ہے کہ بیشتر منصوبے ناقص منصوبہ بندی اور آفیسران کی نااہلی کی وجہ سے التواء کا شکار ہوتے ہیں جس کو بار بار ریویجن کرایا جاتا ہے، نااہل آفیسران اور ٹھیکیداروں کی نااہلی سے علاقے کو نقصان ہورہاہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی ابتداء میں ان منصوبوں کیلئے درکار زمین کے حصول کیلئے معاوضے مقرر ہوتے ہیں لیکن معاوضوں کی بروقت ادائیگی نہ ہونے سے زمینوں کی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور قومی خزانے کو نقصان ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے ترقیاتی عمل کو متاثر کرنے اور نااہل اور ٹھیکیداروں کیساتھ ملی بھگت کی وجہ سے منصوبوں کی ریویجن کا باعث بننے والے ملازمین کیخلاف سخت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے اور منصوبوں کی غیر ضروری ریویجن کی بھرپور حوصلہ شکنی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے سیکریٹری برقیات کو ہدایت کی کہ محکمے میں ایسے آفیسران کیخلاف بلاتفریق محکمانہ کارروائی کی جائے جن کی وجہ سے گزشتہ 10 سالوں سے پاور کے اہم منصوبے التواء کا شکار ہیں۔ محکمے میں جزاء و سزاء کا سخت نظام نافذ کیا جائے۔ چند نااہل ملازمین اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے گلگت بلتستان کو مردہ منصوبوں کا مرکز نہیں بننے دیں گے۔ منصوبوں کی غیر ضروری ریویجن اور عرصہ دراز سے التواء کا شکار ہونے پر صرف انکوائریاں آرڈر کی جاتی ہے جن کو تکمیل تک نہ پہنچانے اور نااہل آفیسران کیخلاف کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام متاثر ہورہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ جی بی ڈی ڈبلیو پی فورم میں منصوبے پیش کرنے سے قبل نچلی سطح کے فورمز پر ان منصوبوں کی مکمل جانچ پڑتال اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کیخلاف جزاء و سزاء کا تعین کرنے کے بعد جی بی ڈی ڈبلیو پی میں منصوبوں کو پیش کیا جائے۔ سکردو میں بجلی کے بحران کی وجہ سے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں لیکن سکردو کیلئے زیر تعمیر منصوبوں میں چند نااہل ملازمین کی وجہ سے منصوبے التواء کا شکار ہورہے ہیں۔ سیکریٹری برقیات ایسے نااہل ملازمین کیخلاف بلاتفریق سخت کارروائی کریں۔ منصوبوں کے پی سی ون کی تیاری اور ڈرائنگ ڈیزائننگ کے عمل کو حقیقت پر مبنی بنایا جائے۔ دفاتر میں بیٹھ کر ناقص پی سی ون کی تیاری کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کا ریویجن کرنا پڑتا ہے۔ جن منصوبوں کی التواء میں ٹیکنیکل سٹاف کی نااہلی ثابت ہو ان کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔ متعلقہ فورمز کی منظوری کے بغیر پی سی ون کے علاوہ اضافی کام کرنا غیر قانونی ہے لہٰذا تمام محکمے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں پی سی ون کے مطابق کام کریں۔ بغیر منظوری کے اضافی کام شامل کرنے والے آفیسران کیخلاف بھی محکمانہ کارروائیاں شروع کی جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے درکار زمین کے حصول کے باوجود زمین کے معاضوں کی ادائیگی کیلئے رقم مختص نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین عرصہ دراز سے مختلف دفاتر کے چکر لگارہے تھے، بیشتر ملازمین نے عدالتوں سے رجوع کرکے اپنے حق میں بھی فیصلے لئے تھے۔ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ سرکاری منصوبوں کیلئے حاصل کئے جانے والے زمینوں کی معاوضوں کی ادائیگی کیلئے خطیر رقم اس سال کے اے ڈی پی میں مختص کی ہے جس سے عرصہ دراز سے متاثر لوگوں کا مسئلہ حل ہوا ہے۔ اسی مد میں تمام اضلاع کیلئے 67 کروڑ 61لاکھ کی منظوری دی جارہی ہے۔

07:55:59 AM 29 August, 2024

گلگت۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے شگر میں 7 سالہ بچی کے زیادتی کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کا سختی سے نوٹس

گلگت۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے شگر میں 7 سالہ بچی کے زیادتی کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی گلگت بلتستان کو ہدایت کی ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے مجرموں کی فوری گرفتاری عمل میں لائیں۔ درندگی کے اس واقعے میں ملوث مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ Chief Minister Gilgit-Baltistan

09:05:05 AM 28 August, 2024